MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

بزم دنیا میں مرا زخم جگر دیکھے گا کون

غزل

بزم دنیا میں مرا زخم جگر دیکھے گا کون
سب تو اپنے میں مگن ہیں پھر ادھر دیکھے گا کون

اس سے اچھا موت آکر ساتھ لے جائے مجھے
اپنی بربادی کا ماتم عمر بھر دیکھے گا کون

اس لئے جاتی نہیں ہوں میں کبھی اب گھر سے دور
میں چلی جاؤں کہیں تو میرا گھر دیکھے گا کون

اس لئے تو چھین لیتا ہے خدا پہلے حواس
اس جہاں میں خود کو ہوتے در بدر دیکھے گا کون

کون خوش ہوگا بھلا میری ترقی دیکھ کر
دیکھنا تو اچھا لگتا ہے مگر دیکھے گا کون

دور تک جائیں گی اب کس کی نگاہیں میرے ساتھ
ماں نہیں ہے تو مجھے اب آنکھ بھر دیکھے گا کون

دیکھنے کو تو منور کو زمانہ ہے مگر
جس قدر تم دیکھتے ہو اس قدر دیکھےگا کون

منور جہاں زیدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم