غزل
بزم دنیا میں مرا زخم جگر دیکھے گا کون
سب تو اپنے میں مگن ہیں پھر ادھر دیکھے گا کون
اس سے اچھا موت آکر ساتھ لے جائے مجھے
اپنی بربادی کا ماتم عمر بھر دیکھے گا کون
اس لئے جاتی نہیں ہوں میں کبھی اب گھر سے دور
میں چلی جاؤں کہیں تو میرا گھر دیکھے گا کون
اس لئے تو چھین لیتا ہے خدا پہلے حواس
اس جہاں میں خود کو ہوتے در بدر دیکھے گا کون
کون خوش ہوگا بھلا میری ترقی دیکھ کر
دیکھنا تو اچھا لگتا ہے مگر دیکھے گا کون
دور تک جائیں گی اب کس کی نگاہیں میرے ساتھ
ماں نہیں ہے تو مجھے اب آنکھ بھر دیکھے گا کون
دیکھنے کو تو منور کو زمانہ ہے مگر
جس قدر تم دیکھتے ہو اس قدر دیکھےگا کون
منور جہاں زیدی