MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

تو مرے عکس تصور سے جدا لگتا نہیں

غزل

تو مرے عکس تصور سے جدا لگتا نہیں
فاصلہ جو درمیاں ہے فاصلہ لگتا نہیں

کالی راتیں دیکھ لوں تو خوف آتا ہے مجھے
خواب کیا پھر نیند سے بھی رابطہ لگتا نہیں

آئنے نے مجھ سے پوچھا تو بتا یہ کون ہے
میں نے دیکھا اور کہا کچھ بھی پتہ لگتا نہیں

کیا محبت کیا ہے نفرت دو الگ ہیں سلسلے
جیسے سچ کا جھوٹ سے بھی واسطہ لگتا نہیں

حرف سارے بول اٹھیں جب بھی میں لکھنے لگوں
اب کوئی جذبہ مرا محو دعا لگتا نہیں

تلخیوں کے زہر کو تحفہ سمجھ لینا بہارؔ
ڈر تو ہے بس کرب کا اس کے سوا لگتا نہیں

بہار النساء بہار

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم