MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

سن رہے ہیں کوئی تارہ سیر کرتا آئے گا

غزل

سن رہے ہیں کوئی تارہ سیر کرتا آئے گا
جانے کیا پیغام دھرتی کے لئے وہ لائے گا

پھول اک دن خواہشوں کا دھوپ میں کمہلائے گا
پتیاں بکھریں گی اس کی بیج ہی رہ جائے گا

بانٹ کر آئے گا سب کچھ شہر کے بازار میں
ہر مہینے خالی جیبیں گھر کو وہ دکھلائے گا

تو ہواؤں سا گزر دامن بچا کر راہ سے
پھول کا تو کام ہے ہنس ہنس کے وہ بہکائے گا

ٹکڑے ٹکڑے ہوں گے سورج اور ستارے ہر طرف
کر کے تانڈو شو سبھی برہمانڈ کو بکھرائے گا

اس کے غصے سے بگولے اٹھ رہیں ہیں دھوپ میں
گرم دل صحرا جو بولا آگ ہی برسائے گا

ایک ہی چبھتا سا کانٹا ان کی پرتوں میں نہیں
پھول سی باتیں ہیں اس کی سب کو ہی مہکائے گا

دیپک قمر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم