MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

وار ایسا ہو کہ بالکل بھی نہ خالی جائے

غزل

وار ایسا ہو کہ بالکل بھی نہ خالی جائے
صلح کی ورنہ کوئی راہ نکالی جائے

حیف ہےان پہ جو بنتے ہیں جدائی کا سبب
ایسے لوگوں کی طرف آگ اچھالی جائے

جب بھی ہونے لگے وحشت تو یہ دل کرتا ہے
چاروں جانب تری تصویر بنا لی جائے

روز کرتی ہے یہ نقصان زمیں زادوں کا
آنکھ آنکھوں سی ہے پر آنکھ چھپا لی جائے

ایک ہی وقت میں دو کام کہاں ہوتے ہیں
گھر بھی چل جائے ، اداسی بھی بچا لی جائے

اسد رضا سحر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم