MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اِک کنجِ قفس میں جو فسوں بول رہا ہے

غزل

اِک کنجِ قفس میں جو فسوں بول رہا ہے
حیرت کے لبادے میں سکوں بول رہا ہے

میں دشت کا مارا ہوں مجھے غور سے دیکھو
چہرے پہ تھکن دل میں جنوں بول رہا ہے

اب کس سے میں پوچھوں کہ کسی شے کی ضرورت
ہر بندہ ہی اب کن فیکوں بول رہا ہے

تم لوگ سمجھنے کا تردد ہی نہ کرنا
کچھ بھی نہیں بولے گا وہ یوں بول رہا ہے

اک شخص مری آنکھ میں چپ چاپ پڑا ہے
اک شخص مرے دل کے دروں بول رہا ہے

اسد رضا سحر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم