غزل
کیوں الٹی جانب تو بہہ رہا ہے کیوں اب روانی کا مسئلہ ہے
جواب آیا یہ وسط دریا سے میرے پانی کا مسئلہ ہے
کوئی بھی کردار شہر بھر سے کسی کو راغب جو کر نہ پایا
تو صاف ظاہر ہے لکھنے والے تری کہانی کا مسئلہ ہے
وہ تیس سالہ حسین عورت ابھی تلک بانجھ ہے خدایا
اُسے طبیبوں نے یہ کہا ہے تجھے جوانی کا مسئلہ ہے
جدھر بھی دیکھا جہاں بھی دیکھا تمام لوگوں کی سسکیاں تھیں
جو صرف اتنا بتا رہے تھے کہ حکمرانی کا مسئلہ ہے
مجھے خبر ہے ذہین ہے تو مگر حقیقت تری جدا ہے
خیال رکھنا عزیز میرے تجھے بیانی کا مسئلہ ہے
ترے رویوں نے اِس تعلق کو اتنا کمزور کر دیا ہے
فقط جو انگلی میں ہے انگھوٹھی اُسی نشانی کامسئلہ ہے
اسد رضا سحر