کرو یہ سرد الاؤ کہ کھیل ختم ہوا
تم اپنے سر کو جھکاؤ کہ کھیل ختم ہوا
سرورِ عشق خمارِ وفا تمام ہوا
چلو یہ جام اٹھاؤ کہ کھیل ختم ہوا
میں خود ہی ٹوٹ کے بکھرا ہوا ہوں قدموں میں
مجھے نہ پھر سے بناؤ کہ کھیل ختم ہوا
فصیلِ شہر پہ لکھ دو کہ تم ہی جیتے ہو
نہ میرا نام بتاؤ کہ کھیل ختم ہوا
وہ اب بھی نام مرا لکھ رہی ہے مہندی سے
اسے یہ جا کے بتاؤ کہ کھیل ختم ہوا
اٹھا لو تم یہ بساطِ حیات منظر سے
لحد کو میری سجاؤ کہ کھیل ختم ہوا
رکھو نہ ہاتھ مرے ہاتھ پر محبت سے
مجھے نہ خواب دکھاؤ کہ کھیل ختم ہوا
یاسر سعید صدیقی