MOJ E SUKHAN

اپنے اجڑے ہوئے گھر کو میں سجا کر دیکھوں

اپنے اجڑے ہوئے گھر کو میں سجا کر دیکھوں
تری تصویر میں کمرے میں لگا کر دیکھوں

یہ تو طے ہے کہ تو روٹھا ہوا ہوگا اب تک
آ ذرا پاس تجھے پھر سے منا کر دیکھوں

اس سے ملنے تو کئی بار گیا ہوں ویسے
اس دفعہ گھر پہ اسے اپنے بلا کر دیکھوں

یہ بھی ممکن ہے کہ وہ تھام لے گرتے گرتے
اس کی جانب میں ذرا ہاتھ بڑھا کر دیکھوں

جانے کیا دیکھ کے ہنستا ہے وہ سوتے سوتے
اس کے خوابوں میں کبھی میں بھی تو جا کر دیکھوں

جو بھی ملتا ہے تجھے مل کے مہک جاتا ہے
میں بھی کیا تجھ کو ذرا ہاتھ لگا کر دیکھوں

وہ محبت کا تو قائل ہی نہیں ہے یاسر
لیلی مجنوں کے اسے قصے سنا کر دیکھوں

یاسر سعید صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم