MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جان جان تجھ سے اگر مجھ کو محبت ہے تو ہے

جان جان تجھ سے اگر مجھ کو محبت ہے تو ہے
اور دنیا کے لیے گر یہ قیامت ہے تو ہے

کوئی اس کو جان جان کہہ کر بلا سکتا نہیں
ساری دنیا میں بس اک مجھ کو اجازت ہے تو ہے

جل رہا ہے سارا عالم یہ نگاہیں دیکھ کر
اس کی نظروں کی اگر مجھ پر عنایت ہے تو ہے

ہر غزل پڑھتی ہے مجھ کو دیکھ کر محفل میں وہ
دیکھ سکتے ہو تو دیکھو یہ حقیقت ہے تو ہے

اور ایسے تھوڑی ہاتھ میں رکھا ہوا ہے ہاتھ یہ
زندہ رہنے کے لیے تیری ضرورت ہے تو ہے

سامنے دو زانو ہو کر تم یہاں بیٹھی رہو
اس طرح سے دیکھنا تم کو عبادت ہے تو ہے

چلتے چلتے دفعتاً دھکا دیا اور ہٹ گئے
تم سمجھتے ہو اگر اس کو شرارت ہے تو ہے

یاسر سعید صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم