MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

زرد پیڑوں پہ نیا رنگ ذرا آنے دے

زرد پیڑوں پہ نیا رنگ ذرا آنے دے
اس طرف بھی نئے موسم کی ہوا آنے دے

جنبش چشم سے گرما دے مرا سرد لہو
سست دریا کو سمندر کی صدا آنے دے

شاخ حالات سے اب جھاڑ بھی دے ترش ثمر
تلخ ہونٹوں پہ کوئی تازہ مزا آنے دے

یوں تو کھا جائے گی ظلمات دل و جاں سب کو
بند کمروں میں کہیں سے تو ضیا آنے دے

گرم راتوں میں خنک ضو کی پڑے دل پہ پھوار
سرخ ہاتھوں کی کوئی شمع حنا آنے دے

جمع ہے ذہن میں کتنا خس و خاشاک خیال
اس کھڑے پانی میں بھی موج بلا آنے دے

خشک پتوں سے بھری شاخیں ہوئیں بار نظر
باغ کا سب سے بڑا پیڑ ہلا آنے دے

خواہش سایہ مجھے چلنے نہ دے گی شاہیںؔ
راہ کی پہلی یہ دیوار گرا آنے دے

جاوید شاہین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم