MOJ E SUKHAN

مل بیٹھنے کے سارے قرینوں کی خیر ہو

مل بیٹھنے کے سارے قرینوں کی خیر ہو
اس کارواں سرا کے مکینوں کی خیر ہو

ٹھہراؤ پانیوں میں ہے کتنا عجیب سا
دریا کے خوش خرام سفینوں کی خیر ہو

ہر خواب کے سفر میں مرے پاؤں کے تلے
آ کر کھسکنے والی زمینوں کی خیر ہو

کر ایک لمحہ سکھ کا مرے روز و شب کو دان
تیرے تمام سال مہینوں کی خیر ہو

دم سے انہی کے اپنے در و بام ہیں بلند
میرے وطن کے خاک نشینوں کی خیر ہو

شبنم شکیل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم