MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

یہ برف زار بدن سے نہ جاں سے نکلے گا

یہ برف زار بدن سے نہ جاں سے نکلے گا
لہو ہو سرد تو شعلہ کہاں سے نکلے گا

ہزار گھیرے رہے جبر کا حصار سیہ
کہ باب‌ راہ اماں درمیاں سے نکلے گا

جو تلخ حرف پس لب ہے عام بھی ہوگا
چڑھا ہے تیر تو آخر کماں سے نکلے گا

جو پیڑ پھل نہیں دیتے وہ کاٹتے جاؤ
خزاں کا زہر یوں ہی گلستاں سے نکلے گا

ذرا چلے تو سہی پانیوں پہ تیز ہوا
کھڑا سفینہ کھلے بادباں سے نکلے گا

کوئی تو کام لو غم سے رگیں ہی چمکاؤ
جلیں گی شمعیں اندھیرا مکاں سے نکلے گا

کھلے ہیں راستوں کے بھید تو سمجھ شاہیںؔ
یہ کارواں سفر رائیگاں سے نکلے گا

جاوید شاہین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم