MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اس کے لیے آنکھیں در بے خواب میں رکھ دوں

اس کے لیے آنکھیں در بے خواب میں رکھ دوں
پھر شب کو جلا کر انہیں محراب میں رکھ دوں

صورت ہے یہی اب تو گزرنا ہے یوں ہی وقت
جس بات کو دل چاہے اسے خواب میں رکھ دوں

پھرتے ہیں سدا جس میں سمندر بھی زمیں بھی
یہ پورا فلک بھی اسی گرداب میں رکھ دوں

یہ سارے ستارے کسی دریا میں بہا دوں
بس چاند پکڑ کر کسی تالاب میں رکھ دوں

کپڑے جو مجھے تنگ ہوں پہنا دوں خلا کو
اور خواب پرانے کہیں مہتاب میں رکھ دوں

اتنا بھی نہ آساں ہو یہاں پیاس بجھانا
بہتا ہوا دھوکہ سا کہیں آب میں رکھ دوں

سب کچھ ہی گنوا دینے سے بہتر ہے کہ شاہیںؔ
خاشاک دل و جاں رہ سیلاب میں رکھ دوں

جاوید شاہین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم