Raat abh aankhoo main katnay lag gayee
غزل
رات اب آنکھوں میں کٹنے لگ گئی
ذات بھی خانوں میں بٹنے لگ گئی
مخملی یادوں نے جب دل کو چھوا
درد کی پھر دھند چھٹنے لگ گئی
راس آئی جب محبت زیست تب
اس کی بانہوں میں سمٹنے لگ گئی
اک سحر چھایا ہے ہر اک شام اب
اس کی باتوں میں ہی کٹنے لگ گئی
جب وفا راس آئی تجھ کو شاز تب
ہجر کی تلخی بھی گھٹنے لگ گئی
شاز ملک
shaz malik