MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

یاروں کے اخلاص سے پہلے دل کا مرے یہ حال نہ تھا

یاروں کے اخلاص سے پہلے دل کا مرے یہ حال نہ تھا
اب وہ چکناچور پڑا ہے جس شیشے میں بال نہ تھا

انساں آ کر نئی ڈگر پر کھو بیٹھا ہے ہوش و حواس
پہلے بھی بے ہوش تھا لیکن ایسا بھی بد حال نہ تھا

گلشن گلشن ویرانی ہے جنگل جنگل سناٹا
ہائے وہ دن جب ہر منزل میں شورشِ غم کا کال نہ تھا

کیوں رے دوانے شہر یہی ہے اک اک پل بھاری ہے جہاں
اپنے ویرانے میں اے دل جی کا یہ جنجال نہ تھا

ہم جو لٹے اس شہر میں جا کر دکھ لوگوں کو کیوں پہنچا
اپنی نظر تھی اپنا دل تھا کوئی پرایا مال نہ تھا

تیری خاک پہ روشن روشن اخترؔ جیسے ستارے تھے
تجھ سا اے مہران کی وادی کوئی بلند اقبال نہ تھا

اختر انصاری اکبر آبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم