MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

زبان بند رہی دل کا مدعا نہ کہا

زبان بند رہی دل کا مدعا نہ کہا
مگر نگاہ نے اس انجمن میں کیا نہ کہا

محیط شوق میں ہم ڈوبتے ابھرتے رہے
خدا گواہ کبھی جور نا خدا نہ کہا

صنم کدہ ہے کہ اک محفل خدا ونداں
بہت خفا ہوا وہ بت جسے خدا نہ کہا

ہزار خضر نما لوگ راستوں میں ملے
ہمارے دل نے کسی کو بھی رہنما نہ کہا

یہ کائنات تو ہے خیر مجھ سے بیگانہ
اگر نگاہ نے تیری بھی آشنا نہ کہا

اختر انصاری اکبر آبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم