MOJ E SUKHAN

بتوں کا ساتھ دیا بت شکن کا ساتھ دیا

غزل

بتوں کا ساتھ دیا بت شکن کا ساتھ دیا
فریب عشق نے ہر حسن ظن کا ساتھ دیا

مرے سکوت نے کب انجمن کا ساتھ دیا
تمہاری چشم سخن در سخن کا ساتھ دیا

تمہارے گیسوئے پر خم پہ مرنے والوں نے
جب آیا وقت تو دار و رسن کا ساتھ دیا

بہار آئی تو محروم‌ رنگ و بو ہیں وہی
جنوں نے دور خزاں میں چمن کا ساتھ دیا

بجھے جو پچھلے پہر تیری انجمن کے چراغ
تو داغ دل نے مرے انجمن کا ساتھ دیا

چمن میں ایک ہمیں رہ گئے خزاں کے لئے
کہ بلبلوں نے بھی رنگ چمن کا ساتھ دیا

خدا کی شان کہ ننگ وطن وہ کہلائیں
جنہوں نے مر کے بھی خاک وطن کا ساتھ دیا

خدا کا شکر کہ میت تو ڈھک گئی اپنی
غبار راہ نے اک بے کفن کا ساتھ دیا

کبھی جو بزم میں اس بت کی بات آ نکلی
جناب شیخ نے بھی برہمن کا ساتھ دیا

وہ طرز نو ہو کہ طرز کہن وفاؔ ہم نے
ہر ایک طرح مذاق سخن کا ساتھ دیا

وفا ملک پوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم