غزل
رات گزری تو یقیں تھا کہ سویرا ہوگا
کیا خبر تھی کہ وہی گھور اندھیرا ہوگا
راہ میں جن سے تھا سایہ وہ شجر سوکھ گئے
اب خدا جانے کہاں اپنا بسیرا ہوگا
ناشناسان محبت سے توقع ہے فضول
جو خود اپنا نہ ہوا کس طرح میرا ہوگا
ہم نشینو شب فرقت کو غنیمت سمجھو
اب کوئی شام نہ ہوگی نہ سویرا ہوگا
آستینوں میں ہے سانپ اپنے چھپائے جو شخص
وہ مرا دوست ہو کیوں کوئی سپیرا ہوگا
طول کھینچا ہے بہت تیرہ شبی نے لیکن
طبل صبح کے بجتے ہی سویرا ہوگا
صبح صادق کی شعاعیں یہ بتاتی ہیں وفاؔ
صبح کاذب کا بس اب دور اندھیرا ہوگا
وفا ملک