MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

رات گزری تو یقیں تھا کہ سویرا ہوگا

غزل

رات گزری تو یقیں تھا کہ سویرا ہوگا
کیا خبر تھی کہ وہی گھور اندھیرا ہوگا

راہ میں جن سے تھا سایہ وہ شجر سوکھ گئے
اب خدا جانے کہاں اپنا بسیرا ہوگا

ناشناسان محبت سے توقع ہے فضول
جو خود اپنا نہ ہوا کس طرح میرا ہوگا

ہم نشینو شب فرقت کو غنیمت سمجھو
اب کوئی شام نہ ہوگی نہ سویرا ہوگا

آستینوں میں ہے سانپ اپنے چھپائے جو شخص
وہ مرا دوست ہو کیوں کوئی سپیرا ہوگا

طول کھینچا ہے بہت تیرہ شبی نے لیکن
طبل صبح کے بجتے ہی سویرا ہوگا

صبح صادق کی شعاعیں یہ بتاتی ہیں وفاؔ
صبح کاذب کا بس اب دور اندھیرا ہوگا

وفا ملک

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم