MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ان کی نگہ ناز کے ٹھکرائے ہوئے ہیں

غزل

ان کی نگہ ناز کے ٹھکرائے ہوئے ہیں
ہم جرم محبت کی سزا پائے ہوئے ہیں

یہ سایہ نشینان گزر گاہ تمنا
کچھ عشق کے کچھ عقل کے بہکائے ہوئے ہیں

اب ان کو نئی صبح کے پیغام سنا دو
جو تیرگی وقت سے گھبرائے ہوئے ہیں

مے چھلکے گی مے ابلے گی مے برسے گی رندو
مے خانے میں خود شیخ حرم آئے ہوئے ہیں

توبہ نہیں ٹوٹے گی سبو آئے کہ خم آئے
مے کش تری آنکھوں کی قسم کھائے ہوئے ہیں

ان اشکوں کے قطروں کو بھی بے مایہ نہ سمجھو
مظلوموں کی آنکھوں میں جگہ پائے ہوئے ہیں

اب ان کے تغافل کا وفاؔ ذکر نہ چھیڑو
دیکھو تو وہ کس ناز سے شرمائے ہوئے ہیں

وفا ملک

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم