MOJ E SUKHAN

نئی سحر ہے یہ لوگو نیا سویرا ہے

غزل

نئی سحر ہے یہ لوگو نیا سویرا ہے
طلوع ہو چکا سورج مگر اندھیرا ہے

خدا ہی جانے یہ دل کب خدا کا گھر ہوگا
ابھی تو اس میں بتان ہوس کا ڈیرا ہے

ابھی نہ دے مجھے آواز اے غم جاناں
ابھی تو شہر وفا میں بڑا اندھیرا ہے

نہ سائبان نہ آنگن نہ چھت نہ روشندان
اور اس پہ سب سے لڑائی کہ گھر یہ میرا ہے

یہ دار و گیر کی دنیا میں کہنا مشکل ہے
کہ کون اس میں لٹا کون یاں لٹیرا ہے

یہ سارے جھگڑے ہیں بس ایک دو پہر کے لیے
کہ نور مہر نہ میرا ہے اور نہ تیرا ہے

وفا نثار ہو اس کی وفا‌ شناسی پر
ہزار گردشوں کے بعد بھی جو میرا ہے

وفا ملک

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم