MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

در ٹوٹنے لگے کبھی دیوار گر پڑے

در ٹوٹنے لگے کبھی دیوار گر پڑے
ہر روز میرے سر پہ یہ تلوار گر پڑے

اتنا بھی انحصار مرے سائے پر نہ کر
کیا جانے کب یہ موم کی دیوار گر پڑے

سانسیں بچھا کے سوؤں کہ دست نسیم سے
شاید کسی کے جسم کی مہکار گر پڑے

ٹھہرے تو سائبان ہوا نے اڑا دئے
چلنے لگے تو راہ کے اشجار گر پڑے

ہر زاویے پہ سوچ میں ابھرے وہی بدن
ہر دائرے پہ ہاتھ سے پرکار گر پڑے

اظہرؔ یہ لمحہ لمحہ سلگنا عذاب ہے
مجھ پر جو برق گرنی ہے اک بار گر پڑے

اظہر ادیب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم