MOJ E SUKHAN

وہ شب کے سائے میں فصل نشاط کاٹتے ہیں

وہ شب کے سائے میں فصل نشاط کاٹتے ہیں
ہم اپنی ذات کے حجرے میں رات کاٹتے ہیں

عجیب لوگ ہیں اس عہد بے مروت کے
زبان کاٹ نہ پائیں تو بات کاٹتے ہیں

یہ لمحہ اہل محبت پہ سخت بھاری ہے
یہ لمحہ اہل محبت کے ساتھ کاٹتے ہیں

تھکن سے پورا بدن چور چور ہوتا ہے
پہاڑ کاٹتے ہیں ہم کہ رات کاٹتے ہیں

یہ رنگ لے کے کہاں آ گئے ہو تم اظہرؔ
یہاں تو لوگ مصور کے ہاتھ کاٹتے ہیں

اظہر ادیب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم