MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

گھنیری چھاؤں کے سپنے بہت دکھائے گئے

گھنیری چھاؤں کے سپنے بہت دکھائے گئے
سوال یہ ہے کہ کتنے شجر اگائے گئے

ملی ہے اور ہی تعبیر آ کے منزل پر
وہ اور خواب تھے رستے میں جو دکھائے گئے

مرے لہو سے مجھے منہدم کرایا گیا
دیار غیر سے لشکر کہاں بلائے گئے

دیے بنا کے جلائی تھیں انگلیاں ہم نے
اندھیری شب کی عدالت میں ہم بھی لائے گئے

فلک پہ اڑتے ہوؤں کو قفس میں ڈالا گیا
زمیں پہ رینگنے والوں کو پر لگائے گئے

ہمارے نام کی تختی بھی ان پہ لگ نہ سکی
لہو میں گوندھ کے مٹی جو گھر بنائے گئے

ملے تھے پہلے سے لکھے ہوئے عدالت کو
وہ فیصلے جو ہمیں بعد میں سنائے گئے

تمام سعد ستارے بگڑ گئے اظہرؔ
سلگتی ریت پہ جب زائچے بنائے گئے

اظہر ادیب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم