MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

لہجے اور آواز میں رکھا جاتا ہے

لہجے اور آواز میں رکھا جاتا ہے
اب تو زہر الفاظ میں رکھا جاتا ہے

مشکل ہے اک بات ہمارے مسلک کی
اپنے آپ کو راز میں رکھا جاتا ہے

اک شعلہ رکھنا ہوتا ہے سینے میں
اک شعلہ آواز میں رکھا جاتا ہے

ہم لوگوں کو خواب دکھا کر منزل کا
رستے کے آغاز میں رکھا جاتا ہے

یہاں تو اڑتے اڑتے تھک کر گرنے تک
چڑیا کو پرواز میں رکھا جاتا ہے

آخر شب جو خواب دکھائی دیتے ہوں
اظہرؔ ان کو راز میں رکھا جاتا ہے

اظہر ادیب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم