MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اس طرح وقت کی لہروں سے نہ ٹکرائے کوئی

اس طرح وقت کی لہروں سے نہ ٹکرائے کوئی
عکس پانی میں رہے اور چلا جائے کوئی

کیسے ممکن ہے کہ یک سمت رہے دل کی پکار
کیسے آسان ہو مشکل مری سمجھائے کوئی

ٹوٹ جاتا ہے وفاؤں کے ترازو کا بھرم
دل کی مسند سے اگر ٹوٹ کے گرجائے کوئی

کتنا مشکل ہے ہواؤں سے بغاوت کرنا
پر مرے کاٹ کے مجھ کو نہ اڑائے کوئی

خالی ہاتھوں میں امڈ آتی ہیں مری آنکھیں
اپنے ہاتھوں سے کبھی خواب نہ دفنائے کوئی

ایک مدت سے سوالی کی طرح رکھے ہیں
میرے ہاتھوں کو بدن تک تو مرے لائے کوئی

ڈھیر رہتے ہیں مرے خواب ارم جھولی میں
ان کو تعبیر کی منزل پہ تو پہنچائے کوئی

ارم ایوب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم