MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

درد اور آنسو چھپے ہوتے ہیں ہر فنکار میں

درد اور آنسو چھپے ہیں وقت کی رفتار میں
مسکراہٹ ڈھل رہی ہے تب ہی تو اشعار میں

ہر نظر ہی تیر ہے ، تلوار ہے اس کے لئے
کوئی دوشیزہ نکل آئے اگر بازار میں

اب مسیحا بن کے آجائے کوئی ، کیا فائدہ
زندگی کی اک رمق باقی نہیں بیمار میں

کون جیتا ، کون ہارا ، زندگی کا کھیل ہے
بس خبر آجائے گی ، کل شام کے اخبار میں

جانے کس کے نام پر ہو ختم میری داستاں
حیرتوں سے دیکھتی ہوں آج کل پرکار میں

آج تک تازہ ہیں سارے زخم دل کے دوستو
جانے کیسی تلخیاں تھیں وقت کی گفتار میں

آپ کو کوشش ارم کی ، شاید آجائے پسند
پیش کردی ہے غزل یہ آپ کی سرکار میں

ارم ایوب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم