MOJ E SUKHAN

تلخ لہجے میں گفتگو کرکے

تلخ لہجے میں گفتگو کرکے
دل کو ٹھکرا دیا لہو کر کے

جو نہ سمجھا تھا مجھ کو اے واعظ
کیا بتاتی اسے وضو کرکے

سخت بد حالیوں کا موسم تھا
وقت ساکن تھا گل کو بو کر کے

جب رقیبوں میں خوش وہ رہنے لگا
کیا کروں خود کو خوبرو کر کے

بخت کا امتحاں تھا کیا کرتی
دامنِ چاک کو رفو کرکے

وقت کردے گا فیصلہ اس کا
کیا کروں میں عدو عدو کر کے

آدمی وحشتوں کا راہی ہے
خود کو سمجھی ارم لہو کر کے

ارم ایوب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم