MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اکیلے رستے میں زندگی کے جو چل نہ پائے تو کیا کرو گے

اکیلے رستے میں زندگی کے جو چل نہ پائے تو کیا کرو گے
سفر کی تنہائی میں تمہیں ہم جو یاد آئے تو کیا کرو گے

خمار لے کر نئی محبت کا، چھوڑ کر ہم کو چل پڑے ہو
تمہیں نشہ اس شراب کا گر نہ راس آئے تو کیا کرو گے

ابھی تو تم بے بسی پہ میری، اڑا رہے ہو مذاق میرا
تمہاری ناکامیوں پہ دنیا مذاق اڑائے ،تو کیا کرو گے

میں اپنی کشتی کی ہوں مسافر،ابھی تو طوفاں سے لڑ رہی ہوں
تمہاری کشتی بھنور میں پھنس کر جو ڈوب جائے تو کیا کرو گے

تمہارے لہجے میں بات کرتے ہوئے رعونت ٹپک رہی ہے
تمہارے لہجے میں کوئی تم کو اگر بلائے تو کیا کرو گے

چلو یہ مانا کہ میں بری ہوں، بہت بری ہوں بہت بری ہوں
تمہارے جیون میں میرے جیسا جو کوئی آئے تو کیا کرو گے

ابھی تو ہر سمت گونجتے ہیں ، یہ طنزیہ قہقہے تمہارے
ارم کی آہوں کا نکلا نوحہ ، فلک پہ جائے تو کیا کرو گے

ارم ایوب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم