MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

یاد نے ان کی ستایا تو غزل ہونے لگی

یاد نے ان کی ستایا تو غزل ہونے لگی
نا رہا ضبط کا یارا تو غزل ہونے لگی

تھے ہر اک زخم میں پنہاں کئی منظر نامے
سب کو ترتیب سے رکھا تو غزل ہونے لگی

آپ غمگین تھے میں ہنس کے بھلا کیا کرتا
غم ترا اپنا ہی سمجھا تو غزل ہونے لگی

ان کی پازیب کی چھن چھن سے ملی بحر نئی
کنگنا ہاتھ میں کھنکا تو غزل ہونے لگی

دیکھا جب قطرہ شبنم سر رخسار گلاب
اشک جو آنکھ سے ٹپکا تو غزل ہونے لگی

خوب منظر تھا وہ بارش میں نہانا انکا
ذرا بالوں کو جو جھٹکا تو غزل ہونے لگی

ڈور الجھی ہوئی یادوں کی بہت تھی خاور
اک سرا ہاتھ جو آیا تو غزل ہونے لگی

ندیم خاور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم