صدائے دل سےجو روک لو تو یہیں کہیں ہوں گیا نہیں ہوں
نہ مٹ سکے جو ترے قدم سے ابھی میں وہ فاصلہ نہیں ہوں
میں اپنے محور پہ ہی کھڑا ہوں ڈٹا ہوا ہوں گرا نہیں ہوں
جو بھول بیٹھے ہیں یار انکو کوئی بتا دے نیا نہیں ہوں
میں جانتا ہوں برستی بارش کے پیچھے تو کیوں چھپا ہوا ہے
مری بھی آنکھیں برس رہی ہیں ہوں آدمی دیوتا نہیں ہوں
میں احتراما تمہارے سائے سے بچ رہا ہوں یقین جانو
ابھی تو اپنی تلاش میں ہوں ابھی تو خود سے ملا نہیں ہوں
تمہارے ہاتھوں میں گر ہیں پتھر تو جان لو تم میں سہ بھی لوں گا
میں سخت کوشی سے خود بھی پتھر سا ہو گیا آئینہ نہیں ہوں
یہ میرے زخموں کی روشنی ہے جو مجھ کو رستہ دکھا رہی ہے
میں وقت کی سازشوں میں گھر کر جھکا نہیں ہوں بکا نہیں ہوں
ابھی تو چنگاریاں ہیں باقی جو تم ہوا دو میں جل اٹھوں گا
میں راکھ میں ہوں چھپا ہوا بس بجھا ہوا کوئلہ نہیں ہوں
گلہ کسی سے نہیں ہے فطرت کسی پہ ہنسنانہیں ہے عادت
مرے لبوں پہ ہے اک تبسم میں کھوکھلا قہقہ نہیں ہوں
تم اپنی آنکھوں سے اب انا کی یہ عینکیں تو اتار دیکھو
میں تم میں موجود ہی رہا ہوں تمہارے دل میں رہا نہیں ہوں
مرے ہی سائے میں چلنے والے کیوں میرے سائے سے ڈر رہےہو
مجھے بنایا تھا تم نے رہبر میں خود تو آگے چلا نہیں ہوں
میں سرخ وسبز دھانی تتلیوں کو تلاش کر لوں گا خود چمن میں
ہیں چند پتے خزاں نے چھوڑے اگرچہ میں اب ہرا نہیں ہوں
کبھی تھا میں خوش مزاج و دلبر کبھی تھا میں خوش لباس خاور
کسی کی حسرت کا عکس ہوں میں میں خود تماشا بنا نہیں ہوں
ندیم خاور