MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

صدائے دل سےجو روک لو تو یہیں کہیں ہوں گیا نہیں ہوں

صدائے دل سےجو روک لو تو یہیں کہیں ہوں گیا نہیں ہوں
نہ مٹ سکے جو ترے قدم سے ابھی میں وہ فاصلہ نہیں ہوں

میں اپنے محور پہ ہی کھڑا ہوں ڈٹا ہوا ہوں گرا نہیں ہوں
جو بھول بیٹھے ہیں یار انکو کوئی بتا دے نیا نہیں ہوں

میں جانتا ہوں برستی بارش کے پیچھے تو کیوں چھپا ہوا ہے
مری بھی آنکھیں برس رہی ہیں ہوں آدمی دیوتا نہیں ہوں

میں احتراما تمہارے سائے سے بچ رہا ہوں یقین جانو
ابھی تو اپنی تلاش میں ہوں ابھی تو خود سے ملا نہیں ہوں

تمہارے ہاتھوں میں گر ہیں پتھر تو جان لو تم میں سہ بھی لوں گا
میں سخت کوشی سے خود بھی پتھر سا ہو گیا آئینہ نہیں ہوں

یہ میرے زخموں کی روشنی ہے جو مجھ کو رستہ دکھا رہی ہے
میں وقت کی سازشوں میں گھر کر جھکا نہیں ہوں بکا نہیں ہوں

ابھی تو چنگاریاں ہیں باقی جو تم ہوا دو میں جل اٹھوں گا
میں راکھ میں ہوں چھپا ہوا بس بجھا ہوا کوئلہ نہیں ہوں

گلہ کسی سے نہیں ہے فطرت کسی پہ ہنسنانہیں ہے عادت
مرے لبوں پہ ہے اک تبسم میں کھوکھلا قہقہ نہیں ہوں

تم اپنی آنکھوں سے اب انا کی یہ عینکیں تو اتار دیکھو
میں تم میں موجود ہی رہا ہوں تمہارے دل میں رہا نہیں ہوں

مرے ہی سائے میں چلنے والے کیوں میرے سائے سے ڈر رہےہو
مجھے بنایا تھا تم نے رہبر میں خود تو آگے چلا نہیں ہوں

میں سرخ وسبز دھانی تتلیوں کو تلاش کر لوں گا خود چمن میں
ہیں چند پتے خزاں نے چھوڑے اگرچہ میں اب ہرا نہیں ہوں

کبھی تھا میں خوش مزاج و دلبر کبھی تھا میں خوش لباس خاور
کسی کی حسرت کا عکس ہوں میں میں خود تماشا بنا نہیں ہوں

ندیم خاور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم