MOJ E SUKHAN

ایسے ہے لفظ پیار کا نفرت کے آس پاس

ایسے ہے لفظ پیار کا نفرت کے آس پاس
جیسے چراغ جلتا ہو ظلمت کے آس پاس

شاید انہیں کسی کے لبوں نے چھوا نہیں
بکھرے پڑے ہیں جام محبت کے آس پاس

پیاسی لہو کی ہونے لگی ہیں قرابتیں
ایسی بھی آیتیں ہیں قیامت کے آس پاس

خاموشیوں کی گونج ہے یا تیز دھڑکنیں
کیوں شور سا مچا ہے یہ خلوت کے آس پاس

ہم سب شکست و فتح کے ہیں درمیان گم
باریک سا حجاب ہے قسمت کے آس پاس

جھوٹی گواہیوں سے سزاوار ہو گئے
ایمان بک رہے ہیں عدالت کے آس پاس

سوچا تھا ہم بھی ایک نیا گھر بنائیں گے
کیسے بنے تھے خواب وہ ہجرت کے آس پاس

بھوکا تو تھامگرنہ تھا لب پر کوئی سوال
خوداری بھی عجیب ہےغربت کے آس پاس

اتنے تھے خوش گمان سکوں کی تلاش میں
ہم گھومتے رہے ہیں کرامت کے آس پاس

الفاظ کا چناو ہی خاور نہیں کمال
لہجہ بھی ہو دلیل خطابت کے آس پاس

ندیم خاور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم