کچھ نگاہیں ہیں کہ جو حشر اٹھا دیتی ہیں
داستانِ در و دیوار سنا دیتی ہیں
کون مدفون ہے کس مقبرہ عالی میں
سنگ مرمر کی وہ تحریریں بتا دیتی ہیں
ٹوٹی قبروں پہ بھی کچھ گل کی بہاریں دیکھیں
جن پہ کتبے بھی نہ تھے انکا پتہ دیتی ہیں
کچی اینٹیں بھی بتادیتی ہیں تاریخ محل
سب مکینوں کا بھی احوال سنا دیتی ہیں
کچھ محلات ہیں بے نام و نشاں آج تلک
اور دیواریں ہیں کچھ اب بھی صدا دیتی ہیں
مسندیں خود ہی بتاتی ہیں کہ کیسے تھے مکین
چلمنیں ذوق محبت کا پتہ دیتی ہیں
کچھ بڑے ناموں سے تاریخ کے پننے ہیں بھرے
نا مرادوں کو تواریخ بھلا دیتی ہیں
خسروی جبہ و دستار کی پابند نہیں
عادتیں سنتے ہیں نسلیں بھی بتا دیتی ہیں
سنتے ہیں آج بھی پریاں اتر آتی ہیں وہاں
خالی تالاب میں بھی عکس دکھا دیتی ہیں
آو خاور چلیں کچھ کتبے پڑہیں قبروں کے
انکی تحریریں بھی سوچوں کو جلا دیتی ہیں
ندیم خاور