MOJ E SUKHAN

زندگی تو قید ہے اور پردۂ محفل میں ہے

غزل

زندگی تو قید ہے اور پردۂ محفل میں ہے
آرزو حسن زمیں کی گوشۂ غافل میں ہے

ڈھونڈھتا ہے تو جسے وہ جستجو میری بھی ہے
مقصد اہل نظر تو ایک ہی منزل میں ہے

بندش کون و مکاں پرواز میں حائل نہیں
حاصل جہد‌ و عمل تو جذبۂ کامل میں ہے

ظلم کی تاریکیوں کو جنبش لب سیل نور
بول کہ ہے وقت تیرا جو بھی تیرے دل میں ہے

جاں فشانی اوس کی اور مٹی کی طلب
کیا بجھے گی پیاس لیکن کچھ نمی تو دل میں ہے

احسان جعفری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم