MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جذبات کی شدت سے نکھرتا ہے بیاں اور

غزل

جذبات کی شدت سے نکھرتا ہے بیاں اور
غیروں سے محبت میں سنورتی ہے زباں اور

احساس کی پلکوں میں تری یاد کا پرتو
غمگین بنا دیتا ہے محفل کا سماں اور

گزرے ہوئے حالات سے بنتی ہے کہانی
گرتے ہوئے تاروں سے منور ہے مکاں اور

مجھ کو نہ بتا زیست کے امکان بہت ہیں
مٹی میں نمی ہو تو ابھرتے ہیں نشاں اور

آنگن ہی میں خوشبو کو مقید نہ کرو تم
پرواز سے مل جائیں گے انساں کو جہاں اور

احسان جعفری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم