MOJ E SUKHAN

بتا منزل شوق کیا ہو گیا

غزل

بتا منزل شوق کیا ہو گیا
مری کوششوں کا صلہ کھو گیا

حوادث کی آندھی ہے زوروں پہ آج
مرا راہبر آج کیوں سو گیا

نہ پند و نصیحت نہ ذوق عمل
یہ شیخ و برہمن کو کیا ہو گیا

چمن سے گزرتی ہے منہ پھیر کر
صبا کی اداؤں کو کیا ہو گیا

تری دل نوازی کی کیا دے گا داد
پلٹ کر وہ آیا نہیں جو گیا

احسان جعفری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم