MOJ E SUKHAN

اپنوں نے اجاڑا ہے چمن جان گئے ہیں

غزل

اپنوں نے اجاڑا ہے چمن جان گئے ہیں
پردوں میں چھپا کون ہے پہچان گئے ہیں

تپتی ہوئی سڑکوں پہ سفر ہم نے کیا ہے
اب برف جو دیکھی ہے تو اوسان گئے ہیں

وشواس کی گرتی ہوئی دیوار کے سائے
قدموں سے کچلتے ہوئے ایمان گئے ہیں

مانا کہ دیا اس نے ہمیں رتبۂ عالی
جنت سے نکالے بھی تو انسان گئے ہیں

گھر اپنا سمجھ کر جو رہے فرش زمیں پر
روتے ہوئے دنیا سے وہ مہمان گئے ہیں

جو پھول کی خوشبو کو چھپانے میں لگے تھے
ناکام محبت میں وہ انسان گئے ہیں

ان سے تو نہ تھی کوئی ہمیں بغض و عداوت
بے کار سی باتوں کو برا مان گئے ہیں

احسان جعفری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم