MOJ E SUKHAN

وہ بچھڑ کر نڈھال تھا ہی نہیں

غزل

وہ بچھڑ کر نڈھال تھا ہی نہیں
یعنی اس کو ملال تھا ہی نہیں

وہ تو پاؤں ہی پڑ گیا تھا مرے
جس سفر میں ملال تھا ہی نہیں

میری تصدیق کیا بھلا کرتا؟
وہ کبھی میری ڈھال تھا ہی نہیں

سرمئی ہجر کو ہرا کرتا
اس میں ایسا کمال تھا ہی نہیں

اور پھر دل نے اس کو چھوڑ دیا
جب تعلق بحال تھا ہی نہیں

چاند پھر ہم سفر بنا میرا
میرے آگے زوال تھا ہی نہیں

ناہید ورک

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم