غزل
نہیں آتے ہیں ہم اپنی سمجھ میں
تو کیسے آئیں گے سب کی سمجھ میں
جسے آتا نہ ہو پانی سمجھ میں
اسے کیا آئے گی مچھلی سمجھ میں
میں اپنے نام کی تختی نہیں ہوں
کہ جو آ جائے پڑھتے ہی سمجھ میں
تمہیں چاند اور تاروں کی پڑی ہے
ہمیں آتی نہیں مٹی سمجھ میں
جو تم سے دیر تک باتیں کرے گا
نہیں آئے گا وہ جلدی سمجھ میں
کسی کا آخری خط پڑھ لیا ہے
نہیں آئے گا اب کچھ بھی سمجھ میں
وہی تو داستاں رہتی ہے زندہ
کہ جو آتی نہیں پوری سمجھ میں
بدل کر رکھ دیا منظر خزاں نے
ابھی آئی ہی تھی تتلی سمجھ میں
فہمی بدایونی