MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

نہیں آتے ہیں ہم اپنی سمجھ میں

غزل

نہیں آتے ہیں ہم اپنی سمجھ میں
تو کیسے آئیں گے سب کی سمجھ میں

جسے آتا نہ ہو پانی سمجھ میں
اسے کیا آئے گی مچھلی سمجھ میں

میں اپنے نام کی تختی نہیں ہوں
کہ جو آ جائے پڑھتے ہی سمجھ میں

تمہیں چاند اور تاروں کی پڑی ہے
ہمیں آتی نہیں مٹی سمجھ میں

جو تم سے دیر تک باتیں کرے گا
نہیں آئے گا وہ جلدی سمجھ میں

کسی کا آخری خط پڑھ لیا ہے
نہیں آئے گا اب کچھ بھی سمجھ میں

وہی تو داستاں رہتی ہے زندہ
کہ جو آتی نہیں پوری سمجھ میں

بدل کر رکھ دیا منظر خزاں نے
ابھی آئی ہی تھی تتلی سمجھ میں

فہمی بدایونی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم