MOJ E SUKHAN

تیری راہ میں رکھ کر اپنی شام کی آہٹ

غزل

تیری راہ میں رکھ کر اپنی شام کی آہٹ
دم بخود سی بیٹھی ہے میرے بام کی آہٹ

ہاتھ کی لکیروں سے کس طرح نکالوں میں
تیری یاد کے موسم، تیرے نام کی آہٹ

جب یہ دل رفاقت کی کچی نیند سے جاگا
ہر طرف سنائی دی اختتام کی آہٹ

رات کے اترتے ہی دل کی سونی گلیوں میں
جاگ اٹھتی ہے پھر سے تیرے نام کی آہٹ

بیٹھ جاتی ہے آ کر در پہ کیوں مرے، ناہیدؔ
تیرے ساتھ کی خوشبو، تیرے گام کی آہٹ

ناہید ورک

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم