MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

نجانے کس کی دعا ہے کہ کام چل رہا ہے

غزل

نجانے کس کی دعا ہے کہ کام چل رہا ہے
کوئی نظام نہیں اور نظام چل رہا ہے

رہ وفا میں بچھے ہیں جفا کے انگارے
جو چل رہا ہے وہ دو چار گام چل رہا ہے

کئی ادیبوں کے نامرد ہو چکے ہیں قلم
کئی برس سے فقط ان کا نام چل رہا ہے

خبر ملی ہے کہ آقا پرست بستی میں
کسی کے پیچھے کسی کا غلام چل رہا ہے

جو کھا چکا ہے ہمارے شکیب اور ثروت
سخن کدوں میں وہی حرف خام چل رہا ہے

میں جانتا ہوں جو نا شاعروں کی ہے قیمت
میں جانتا ہوں جو ان سب کا دام چل رہا ہے

ہے ثبت مہر سفارش حسین جسموں پر
ادب کی منڈی میں مال حرام چل رہا ہے

تجھے خبر نہیں واصفؔ بدن کے سکے کی
اے میرے دوست یہ سکہ تو عام چل رہا ہے

جبار واصف

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم