MOJ E SUKHAN

پوششٍ فکر نہیں، توشکٍ ادراک نہیں

غزل

پوششٍ فکر نہیں، توشکٍ ادراک نہیں
رات میں خواب سے بہتر کوئی پوشاک نہیں

ایک ٹھہرے ہوئے ساگر میں ترازو ہو کر
ہر پرندے کو یہ حیرت کہیں افلاک نہیں

جیسی اوسان خطائی سے ھے یاں ترکٍ مکاں
یہ زمیں اتنی بھی کم مایہٍ خوراک نہیں

پھول بھی تتلی کی مانند ھے اک شخصیت
رنگ خوشبو سے جدا ہو کے بھی خاشاک نہیں

زاہد حسین جوہری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم