MOJ E SUKHAN

مجھے کوئی ایسی غزل سنا کہ میں رو پڑوں

غزل

مجھے کوئی ایسی غزل سنا کہ میں رو پڑوں
ذرا جے جے ونتی کے سر لگا کہ میں رو پڑوں

مرے ضبط تجھ کو مری طرف سے یہ اذن ہے
مرا آج اتنا تو دل دکھا کہ میں رو پڑوں

یہ جو خاک اوڑھ کے سو رہی ہے مری ہنسی
یوں بلک بلک کے اسے جگا کہ میں رو پڑوں

مرے خودکشی کے خیال پر مرے حال پر
مری بے بسی مجھے یوں ہنسا کہ میں رو پڑوں

تجھے علم ہے مرا کوئی تیرے سوا نہیں
مجھے آ کے ایسے گلے لگا کہ میں رو پڑوں

میں جہان سرخ میں سبز پوش چراغ ہوں
مری لو کو اتنا نہ آزما کہ میں رو پڑوں

مرا بخت میرا نصیب تجھ سے چھپا نہیں
مجھے دے تو ایسی کوئی دعا کہ میں رو پڑوں

یہ جو عشق کی سیہ شال ہے یہ وبال ہے
اسے یوں نہ دیکھ کے مسکرا کہ میں رو پڑوں

مری آنکھیں اب بھی تری گلی میں ہیں خیمہ زن
فقط ایک بار انہیں دیکھ جا کہ میں رو پڑوں

مرا نام تو نے رکھا تھا واصفؔ نا تمام
اسی نام سے مجھے پھر بلا کہ میں رو پڑوں

جبار واصف

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم