MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

تمہارے پہلو میں زندگی نے جو سانس لی تھی وہ مر چکی ہے

غزل

تمہارے پہلو میں زندگی نے جو سانس لی تھی وہ مر چکی ہے
جو دشت میں میری ہم سفر تھی وہ ریت آنکھوں میں بھر چکی ہے

عجب رویہ ہے جنگلوں کا عجب روش ہے شکاریوں کی
ٹھمک ٹھمک کر ہوا جو چلتی تھی بن میں اب وہ بھی ڈر چکی ہے

وہ کس ستارے کی جستجو میں ہزار راتوں سے جاگتے ہیں
کوئی تو بتلائے راہبوں کو شب ستارہ گزر چکی ہے

میں کہکشاؤں کا ہم سفر ہوں میں چاند تاروں کا راہبر ہوں
مرے تخیل کی طشتری تو مریخ پر بھی اتر چکی ہے

اناج لے کر دعائیں دینے اب آ رہے ہو فقیر بابا
ہماری بستی جب اپنا مال و منال پانی پہ دھر چکی ہے

جو بربریت کے مرتکب ہیں زمیں پہ اب بھی وہ محتسب ہیں
خدا کے آگے فلک پہ خلقت کی آہ ماتم بھی کر چکی ہے

زمین زادے زمین زادوں پہ آپ ہی قہر ڈھ رہے ہیں
حیات انساں کی اس لئے تو اجڑ چکی ہے بکھر چکی ہے

نہ صبر سے جبر ہارتا ہے نہ خیر دیتی ہے مات شر کو
صمیم جتنے ہیں دربدر ہیں بدوں کی دنیا سنور چکی ہے

میں کیا بتاؤں کہ کیسا مرد عمل ہے مدفن میں دفن واصفؔ
لحد کے رخ پر وہ دیکھ میت کی اپنی صورت ابھر چکی ہے

جبار واصف

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم