MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

نہ یہ صحیفوں کا مسئلہ ہے نہ یہ عقیدوں کا مسئلہ ہے

غزل

نہ یہ صحیفوں کا مسئلہ ہے نہ یہ عقیدوں کا مسئلہ ہے
یہ مسئلہ ہے وہی جو کربل کے سب شہیدوں کا مسئلہ ہے

یہ قم کی مسجد کا سرخ جھنڈا ہے دس محرم کا ہی تسلسل
اسی لئے تو یہ دنیا بھر کے سبھی یزیدوں کا مسئلہ ہے

جو چودہ صدیوں سے ہر حساب و کتاب پر ہم جھگڑ رہے ہیں
یہ دیں کے دفتر کی جاری کردہ غلط رسیدوں کا مسئلہ ہے

بتا رہی ہے مزار مرشد پہ اب یہ چلہ کشوں کی محنت
جو پہلے مرشد کا مسئلہ تھا وہ اب مریدوں کا مسئلہ ہے

سبھی کے منہ میں زباں ہے لیکن کسی کے منہ میں زباں نہیں ہے
کہ حق بیانی تو صرف مجھ سے دہن دریدوں کا مسئلہ ہے

میں کہنہ الفاظ کے بدن سے نئے معانی نکالتا ہوں
سو میرا اسلوب شہر فن کے سبھی جدیدوں کا مسئلہ ہے

جو حرف ناپاک ہیں انہیں وہ برائے زر پاک لکھ رہے ہیں
یہ دور حاضر کے ناقدوں میں گھسے پلیدوں کا مسئلہ ہے

وہ جن کا ہر روز عید جیسا ہے کوئی ان کو بتائے واصفؔ
کہ مفلسوں کے گھروں میں بچوں کی دونوں عیدوں کا مسئلہ ہے

جبار واصف

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم