MOJ E SUKHAN

کوئی ہیجان اس کو کہتا ہے کوئی وجدان اس کو کہتا ہے

غزل

کوئی ہیجان اس کو کہتا ہے کوئی وجدان اس کو کہتا ہے
کوئی کہتا ہے شاعری ہے عبث کوئی امکان اس کو کہتا ہے

اپنی اپنی پسند ہے سب کی اپنا اپنا ہے سب کا ذوق سخن
واہ کہتا ہے کوئی سن کے غزل کوئی ہذیان اس کو کہتا ہے

حاصل عمر ایک شاعر کا ڈیڑھ دو سو ورق کا مجموعہ
کوئی دیوانہ پن سمجھتا ہے کوئی دیوان اس کو کہتا ہے

فرق حسن نظر کا ہوتا ہے ایک موتی کو دیکھنے میں بھی
کوئی کہتا ہے سنگ ریزہ اسے کوئی مرجان اس کو کہتا ہے

لے کے پھرتے ہیں اپنے سر پہ سبھی اپنے اپنے یقین کی چادر
کوئی کہتا ہے گائے ماتا ہے کوئی حیوان اس کو کہتا ہے

کالا پتھر ہے جو عقیدے کا سب کو ملتا ہے یہ وراثت میں
کوئی بے جان اس کو کہتا ہے کوئی بھگوان اس کو کہتا ہے

لوح محفوظ کے مصنف نے جو برائے بشر کیا تحریر
کوئی انجیل اس کو کہتا ہے کوئی قرآن اس کو کہتا ہے

خوب درے پڑیں گے واصفؔ کو روز محشر دروغ گوئی پر
ایک قطرے کی بات ہوتی ہے اور یہ طوفان اس کو کہتا ہے

جبار واصف

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم