MOJ E SUKHAN

اسے چھوتے ہوئے بھی ڈر رہا تھا

اسے چھوتے ہوئے بھی ڈر رہا تھا
وہ میرا پہلا پہلا تجربہ تھا

اگرچہ دکھ ہمارے مشترک تھے
مگر جو دو دلوں میں فاصلہ تھا

کبھی اک دوسرے پر کھل نہ پائے
ہمارے درمیاں اک تیسرا تھا

وہ اک دن جانے کس کو یاد کر کے
مرے سینے سے لگ کے رو پڑا تھا

اسے بھی پیار تھا اک اجنبی سے
مرے بھی دھیان میں اک دوسرا تھا

بچھڑتے وقت اس کو فکر کیوں تھی
بسر کرنی تو میرا مسئلہ تھا

وہ جب سمجھا مجھے اس وقت انجمؔ
مرا معیار ہی بدلا ہوا تھا

انجم سلیمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم