مواد پر جائیں۔
moj e sukhan Logo
  • مرکزی صفحہ
  • شاعری
    • شاعری کے زمرے
  • کتابیں
    • نثری کتب
    • موجِ سخن اشاعت گھر
    • شعری کتب
    • تقدیسی ادب
  • مضامین
    • مضامین
    • ناول
    • افسانے
    • تبصرے
  • بچوں کا ادب
    • بچوں کی کہانیاں
    • بچوں کی نظمیں
  • تعارف
  • انٹرویو
  • ویڈیوز
  • آڈیو
  • مالی تعاون
  • مرکزی صفحہ
  • شاعری
    • شاعری کے زمرے
  • کتابیں
    • نثری کتب
    • موجِ سخن اشاعت گھر
    • شعری کتب
    • تقدیسی ادب
  • مضامین
    • مضامین
    • ناول
    • افسانے
    • تبصرے
  • بچوں کا ادب
    • بچوں کی کہانیاں
    • بچوں کی نظمیں
  • تعارف
  • انٹرویو
  • ویڈیوز
  • آڈیو
  • مالی تعاون

MOJ E SUKHAN

شاعری
بچوں کا ادب
انٹرویو
آڈیو
کتابیں
مضامین
تعارف
ویڈیوز

شاعری کے زمرے

[wpdts-date-time]

Popular Keywords

Categories

No Record Found

View All Results

خالد علیگ

  • کراچی

خالد علیگ پاکستانی مایہ ناز شاعر اور صحافی تھے اصل نام سید خالد احمد شاہ تھا۔ وہ 1925ء میں قائم گنج، ضلع فرخ آباد (اُتر پردیش) میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور قیام پاکستان کے بعد 1947ء میں پاکستان آ گئے۔ وہ پیشہ کے اعتبار سے سِول انجینئر تھے اور انہوں نے اپنی ملازمت کے سلسلے میں اوکاڑہ، لاہور، سکھر، میرپور خاص اور دیگر شہروں میں قیام کیا۔ 1960ء میں وہ مستقلاً کراچی آ گئے ناب خالد علیگ ایک خوش گوشاعر تھے۔ وہ ہمیشہ ترقی پسند نظریہ سے وابستہ رہے۔ انہوں نے ہر دور میں مزاحمتی شاعری کی جو ان کی شناخت بن گئی۔ ان کا شعری مجموعہ غزال دشت سگاں کے نام سے اشاعت پذیر ہوا تھا پندرہ اگست 2007ء کو خالد علیگ کراچی میں وفات پاگئے۔وہ کراچی میں قبرستان مولا مدد، ریڑھی گوٹھ لانڈھی کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں

 

حالیہ شاعری

دیوار بن کے ظلم کے آگے اڑے گا کون

سکہ چلے چمن میں خزاں یا بہار کا

چمن چمن کے دشمنوں کی نذر ہو کے رہ گیا

کہتے ہیں کچھ نہ سنتے ہیں خالد کسی سے ہم

مقتولو! محروموں ، اب پہچان میں کیا شے حائل ہے

تماشا کر چکی چشمِ تماشا ہم نہ جاگیں گے

بغیر مَرضیِ مُختارِ کُل کوئ حَرَکت

نام جب کوئی سرِ شاخ صنوبر لکھنا

کرب تخلیق سے گزر کر دیکھ

تاریخِ شب و روز سے وابستہ رہے ہیں

یہ حرف اور اس کی حکایت کچھ اور ہے

دشت پیما رہے ہر چند بگولوں کی طرح

دامانِ تمنّا کی اتنی تہی دامانی

بھلا ایسا بھی ہوتا ہے کہیں، ایسا نہیں ہوتا

جس رہگزر سے دن میں گزرتا ہے آدمی

عقدہ کُشائے عالمِ امکاں کہیں جسے

کیف و نشاط جام سے آگے نکل گیا

میں ڈرا نہیں میں دبا نہیں میں جھکا نہیں میں بکا نہیں

Facebook
Twitter
Pinterest

ہمیں لکھیں۔

فوری رابطے

رابطہ
ہمارے بارے میں
بانی کے بارے میں
رازداری کی پالیسی
شرائط و ضوابط
moj e sukhan Logo

موجِ سخن پر شائع ہونے والی تمام نگارشات قلم کاروں کی ذاتی آراء پر مبنی ہیں۔ ادارہ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

ہمیں فالو کریں

Facebook-f Twitter Youtube Instagram

Copyrights 2022 - 2025 Moje Sukhan powered by Ahsan Taqweem