MOJ E SUKHAN

اس دشت سے آگے بھی کوئی دشت گماں ہے

غزل

اس دشت سے آگے بھی کوئی دشت گماں ہے
لیکن یہ یقیں کون دلائے گا کہاں ہے

یہ روح کسی اور علاقے کی مکیں ہے
یہ جسم کسی اور جزیرے کا مکاں ہے

کرتا ہے وہی کام جو کرنا نہیں ہوتا
جو بات میں کہتا ہوں یہ دل سنتا کہاں ہے

کشتی کے مسافر پہ یونہی طاری نہیں خوف
ٹھہرا ہوا پانی کسی خطرے کا نشاں ہے

جو کچھ بھی یہاں ہے ترے ہونے سے ہے ورنہ
منظر میں جو کھلتا ہے وہ منظر میں کہاں ہے

اس راکھ سے اٹھتی ہوئی خوشبو نے بتایا
مرتے ہوئے لوگوں کی کہاں جائے اماں ہے

یہ کار سخن کار عبث تو نہیں عامیؔ
یہ قافیہ پیمائی نہیں حسن بیاں ہے

عمران عامی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم