MOJ E SUKHAN

المیہ ختم ہوا

اک کرن اور ہوئی رات کی ظلمت میں اسیر
پھر کسی نغمۂ بیتاب کی لے ساز سے آزاد ہوئی
ایک تابندہ حقیقت کہ جو تھی راز ہوئی
سرد پیمان وفا سرد ہوئی آتش شوق
سرد جذبات کا
طوفان خموش
سرد تابندہ نگاہوں کے شرار
سرد بر کیفیت
غم کی سلگتی ہوئی آگ
جام پر شور سے
گر جانے دو ناکام تمناؤں کی مے
فرش مے خانۂ الفت پہ الٹ دو ساغر
سرنگوں بند دریچوں میں
امیدوں کے دیئے گل کر دو
داستاں سوز و محبت کی ادھوری ہےمگر
المیہ ختم ہوا
دل شکن آخری منظر پہ گرا دو پردے

زاہدہ زیدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم