MOJ E SUKHAN

ان کے روضے پہ جب رات ہونے لگی

ان کے روضے پہ جب رات ہونے لگی
چاند تاروں کی برسات ہونے لگی

جب قلم نے لکھا یا نبی السلام
لفظ کہنے لگے، نعت ہونے لگی

نور پھیلا جہاں میرے سرکار کا
تیرگی کو وہیں مات ہونے لگی

میرے صحرائے رنج و الم میں بھی اب
ان کی رحمت کی برسات ہونے لگی

آنکھ روشن ہوئی، دل چمکنے لگا
راہ طیبہ میں جب رات ہونے لگی

بادشاہوں نے اپنے خزانے بھرے
جب مدینے میں خیرات ہونے لگی

مجھ پہ آقا کا رونق کرم یوں ہوا
جب تصور کیا، بات ہونے لگی

رونق حیات

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم